جوڑوں کا گھساؤ (اوسٹیو آرتھرائٹس)
ڈاکٹر سنجے انبو، MBBS کی تحریر اور طبی جائزہ
اردو ترجمے کا جائزہ: 2026-11-05اوسٹیو آرتھرائٹس جوڑ کا "گھساؤ" ہے، جس میں ہڈیوں کو بچانے والی ہموار کارٹلیج (نرم ہڈی) آہستہ آہستہ پتلی ہو جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر گھٹنوں، کولہوں، ہاتھوں اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر عمر کے ساتھ۔
جوڑوں کا گھساؤ کے بارے میں MedDroid سے پوچھیں ←وجوہات اور خطرات
- بڑھتی عمر اور جوڑ کا لمبے عرصے تک استعمال
- زیادہ وزن، جو گھٹنوں اور کولہوں پر بوجھ ڈالتا ہے
- جوڑ پر پہلے لگی چوٹ یا سرجری
- بار بار اکڑوں بیٹھنا، گھٹنوں کے بل بیٹھنا یا بھاری وزن اٹھانا (گھر کے کاموں اور مشقت والے کام میں عام)
- خاندان میں گٹھیا کی تاریخ
- جوڑ کے ارد گرد کمزور پٹھے
عام علامات
- جوڑ کا درد جو کام کرنے سے بڑھے
- آرام کے بعد یا صبح کے وقت اکڑاؤ
- جوڑ میں رگڑ یا کڑکڑاہٹ کی آواز
- جوڑ کے ارد گرد سوجن
- حرکت کی حد کم ہونا
- گھٹنے کا "جواب دے جانا" یا ڈگمگانا
ٹیسٹ اور تشخیص
- ایکسرے (X-ray)
- ایم آر آئی (MRI)
- CBC (خون کا مکمل ٹیسٹ)
- CRP (سوزش کا ٹیسٹ)
- ڈاکٹر کا جوڑ کا معائنہ
علاج اور دیکھ بھال
- وزن کم کرنا اور ہلکی ورزش (چہل قدمی، تیراکی، سائیکل چلانا)
- ارد گرد کے پٹھے مضبوط کرنے کے لیے فزیوتھراپی
- مشورے کے مطابق درد کی دوائیں اور لگانے والے جیل
- گرم یا ٹھنڈی ٹکور اور سرگرمیوں میں تبدیلی
- کچھ منتخب صورتوں میں جوڑ کے انجیکشن
- شدید اور معذور کر دینے والی بیماری میں جوڑ بدلنے کی سرجری
فوراً ڈاکٹر کو کب دکھائیں
- جوڑ کا درد جو چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے سے روک دے
- گرم، سرخ اور بہت سوجا ہوا جوڑ (انفیکشن ہو سکتا ہے)
- جوڑ کا پھنس جانا، اٹکنا یا گھٹنے کا بار بار جواب دے جانا
- آرام اور سادہ تدابیر کے باوجود درد قابو میں نہ آنا
یہ تشخیص نہیں ہے۔ MedDroid جوڑوں کا گھساؤ کے بارے میں صرف عام معلومات دیتا ہے۔ یہ آپ کا معائنہ، تشخیص یا دوا تجویز نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر سے تصدیق کریں۔ ایمرجنسی میں فوراً اپنے مقامی ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا چلنے سے اوسٹیو آرتھرائٹس بڑھتا ہے؟
نہیں۔ ہلکی اور باقاعدہ چہل قدمی عموماً فائدہ دیتی ہے کیونکہ یہ جوڑ کو متحرک رکھتی ہے اور پٹھے مضبوط کرتی ہے۔ زور دار سرگرمیاں اور گہرا اکڑوں بیٹھنا اسے زیادہ بگاڑتے ہیں۔
کیا مجھے لازمی گھٹنا بدلوانا پڑے گا؟
زیادہ تر لوگ وزن پر قابو، ورزش اور دواؤں سے کئی سال تک اچھی طرح گزارا کرتے ہیں۔ سرجری صرف تب سوچی جاتی ہے جب ان تدابیر کے باوجود درد اور معذوری شدید ہو۔