ہائپرتھائیرائیڈزم (تھائیرائیڈ کی زیادتی)
ڈاکٹر سنجے انبو، MBBS کی تحریر اور طبی جائزہ
اردو ترجمے کا جائزہ: 2026-11-05ہائپرتھائیرائیڈزم میں تھائیرائیڈ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون بناتا ہے، جس سے جسم کا نظام تیز ہو جاتا ہے۔ اس سے وزن کم ہونا، دل کی تیز دھڑکن اور گھبراہٹ ہو سکتی ہے۔
ہائپرتھائیرائیڈزم کے بارے میں MedDroid سے پوچھیں ←وجوہات اور خطرات
- گریوز بیماری (خود کار مدافعتی وجہ)
- تھائیرائیڈ کی زیادہ فعال گلٹیاں
- تھائیرائیڈ کی سوزش (thyroiditis)
- زیادہ آیوڈین یا تھائیرائیڈ کی دوا زیادہ لینا
- کبھی کبھار، پٹیوٹری گلینڈ کا مسئلہ
عام علامات
- دل کی دھڑکن محسوس ہونا
- اچھا کھانے کے باوجود وزن کم ہونا
- گرمی لگنا اور پسینہ آنا
- گھبراہٹ یا چڑچڑاپن
- ہاتھوں میں کپکپاہٹ
- پتلا پاخانہ
- آنکھیں باہر کو ابھرنا (گریوز بیماری میں)
ٹیسٹ اور تشخیص
- TSH (تھائیرائیڈ کو متحرک کرنے والا ہارمون)
- تھائیرائیڈ فنکشن (TFT)
- تھائیرائیڈ اینٹی باڈیز (TRAb)
- تھائیرائیڈ اسکین / آیوڈین جذب ٹیسٹ
- CBC (خون کا مکمل ٹیسٹ)
علاج اور دیکھ بھال
- ہارمون کم کرنے کے لیے اینٹی تھائیرائیڈ دوائیں
- دھڑکن اور کپکپاہٹ کم کرنے کے لیے بیٹا بلاکر قسم کی دوائیں
- منتخب مریضوں میں ریڈیو ایکٹو آیوڈین کا علاج
- ضرورت ہو تو تھائیرائیڈ کا کچھ حصہ یا پورا گلینڈ نکالنے کا آپریشن
- خون کے ٹیسٹ سے باقاعدہ نگرانی
فوراً ڈاکٹر کو کب دکھائیں
- بخار اور ذہنی الجھن کے ساتھ بہت تیز یا بے ترتیب دھڑکن، یہ ایمرجنسی ہے
- تیزی سے وزن کم ہونا، دھڑکن اور گرمی برداشت نہ ہونا
- آنکھ میں درد، دوہرا نظر آنا یا آنکھیں ابھرنا
- گردن کی سوجن جو بڑھ رہی ہو
یہ تشخیص نہیں ہے۔ MedDroid ہائپرتھائیرائیڈزم کے بارے میں صرف عام معلومات دیتا ہے۔ یہ آپ کا معائنہ، تشخیص یا دوا تجویز نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر سے تصدیق کریں۔ ایمرجنسی میں فوراً اپنے مقامی ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہائپرتھائیرائیڈزم ٹھیک ہو سکتا ہے؟
بہت سے لوگ ریڈیو ایکٹو آیوڈین یا آپریشن سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، اگرچہ کچھ کو بعد میں تھائیرائیڈ ہارمون کی گولی لینی پڑتی ہے۔ گریوز بیماری میں دوائیں بھی لمبے عرصے تک بیماری کو قابو میں رکھ سکتی ہیں۔
اس سے دل کی دھڑکن تیز کیوں ہوتی ہے؟
زیادہ تھائیرائیڈ ہارمون دل اور میٹابولزم کو تیز کر دیتا ہے، جس سے دھڑکن، کپکپاہٹ اور گرمی برداشت نہ ہونا ہوتا ہے۔ علاج سے یہ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔